حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 36
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 36 أَشْرَافُ أُمَّتِي حَمَلَةُ الْقُرْآنِ وَ أَصْحَابُ اللَّيْلِ (شعب الایمان، التاسع عشر باب فی تعظیم القرآن، فصل في تنوير موضع القرآن ترجمہ:۔میری اُمت کے معزز ترین لوگ حاملین قرآن اور رات کو عبادت کرنے والے ہیں۔حاملین قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کو یاد کرتے ، راتوں کو قیام کرتے ، قیام میں تلاوت قرآن کریم کرتے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ایسے حاملین قرآن یعنی حفاظ کو أشراف اُمت کا اعزاز دیا گیا ہے یعنی اُمت میں سب سے زیادہ عزت ومرتبہ رکھنے والے لوگ۔حفاظ جنت کے سردار ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کو جنت کے سردار قرار دیا ہے۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔(المعجم الكبير للطبراني، باب الحاء، الحسين بن على) ترجمہ: حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن حفاظ قرآن اہلِ جنت کے سردار ہوں گے۔سب سے زیادہ فنی حفاظ کرام ہیں : حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کرام کولوگوں میں سب سے زیادہ فنی اور مالدار قرار دیا۔ہے۔یعنی قرآن کریم حفظ کر کے جو دولت انہوں نے کمائی ہے، کسی اور کے پاس یہ دولت نہیں۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَغْنَى النَّاسِ حَمَلَةَ الْقُرْآنِ مَنْ جَعَلَهُ اللَّهُ فِي جَوفِهِ (کنز العمال، جلد اول، صفحه 257 ، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله ، حدیث نمبر (2258 ترجمہ: لوگوں میں سب سے غنی حاملین قرآن یعنی قرآن کریم حفظ کرنے والے ہیں،