حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 30 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 30

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 30 زبر دست جواب عطا فرمایا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے دلوں میں قرآنی تعلیم راسخ کرنے کے لیے اس کو بتدریج اتارا ہے کیونکہ اگر یک دفعہ اتارا جا تا تو اس کی ایک ایک تعلیم پر عمل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مشکل میں پڑ جاتے۔پس ایمان لانے والوں اور قرآن کریم پر عمل کرنے والوں کی آسانی اور ثبات قلب کے لیے اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا تدریجی طریقہ اختیار فرمایا اور یہی طریق اعلیٰ ، افضل اور آسان تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے جو بھی طریق اختیار فرمایا اس میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ تھیں۔بتدریج قرآن کریم کے نزول سے یہ بھی آسانی ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر اور زندہ سے زندہ تر ہوتا چلا گیا اور اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ اور مضبوط تر ہوتا چلا گیا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے روزانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کا عملی نمونہ ملاحظہ کرتے اور یوں ان کے ایمان ترقی کرتے چلے جاتے تھے۔قرآن کریم ایک ضابطہ حیات کے طور پر نازل کیا گیا اور اس ضابطہ حیات کو لفظ بہ لفظ محفوظ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے نزول کی مقدار اور رفتار اتنی ہی ہو جو بآسانی ضبط تحریر میں بھی لائی جا سکے اور جسے زیادہ تعداد میں لوگ دیکھ اور پڑھ کر تصدیق کر سکیں کہ یہی وہ الفاظ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائے ، سکھائے اور یادکر وائے ہیں۔پس یہی وہ با برکت طریق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خود تجویز فرمایا تا کہ جو کتاب ساری دُنیا کی ہدایت کے لئے نازل کی جارہی ہے، اس کا آسانی کے ساتھ محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے، سو اللہ تعالیٰ نے خود یہ طریق اختیار فرمایا۔اگر قرآن کریم یک بارگی نازل ہوتا تو پھر اس کا حفظ کرنا اور اس کو لکھنا نہ صرف مشکل ہو جاتا بلکہ سب حفاظ کے حفظ کی غلطیاں نکالنا اور لکھنے والوں کی تحریروں کو دیکھنا ایک انسان کے لیے ناممکن نہیں تو