حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 22
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 22 باب دوم فضائل حفظ قرآن پہلی آ : بیت: از روئے قرآن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر :10) ترجمہ۔بے شک ہم نے ہی اس ذکر (یعنی قرآن کریم ) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اس آیت کریمہ نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے جس کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ لاکھوں، کروڑوں افراد کے سینوں میں قرآن کریم کو محفوظ کر دیا۔قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری لینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل اُتاری جانے والی تمام کتب اور صحائف جو ایک خاص قوم اور مخصوص زمانہ سے متعلق تھے ان میں انسانی ہاتھوں اور ذہنوں نے اپنی اپنی اختراعات شامل کر دی تھیں اور اس تحریف و تبدل کے بعد اب ان کی وہ شکل نہ رہی تھی جس میں وہ نازل کیے گئے تھے جبکہ قرآن کریم واحد پہلی اور آخری ایسی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نصاب اور لائحہ عمل کے طور پر بلا تفریق رنگ و نسل اور زمانہ سارے عالم کے لیے ہے۔پس اس کی حفاظت کے لیے ایسے ہی اہتمام کی ضرورت تھی کہ یہ انسانی دست برد سے محفوظ رہے اور تا قیامت اس کا شعفہ تک تبدیل نہ کیا جاسکے۔ظاہر ہے کہ ایسی حفاظت قادر مطلق ہی کر سکتا ہے کوئی انسان نہیں۔چنانچہ اس قادر مطلق نے اس طریق پر حفاظت کا بندوبست کر دیا کہ مسلمانوں کو محیر العقول حافظے عنایت فرمائے تا کہ قرآن کریم ہر زمانہ میں عشاق مسلمانوں کے سینوں کی امانت بنتا رہا اور تا قیامت بنارہے۔