حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 21 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 21

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 21 میں زندہ ومحفوظ رہے گا۔پس حفاظ کرام کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ حفاظت قرآن کا سب سے بڑا ذریعہ اُن کے دل ہیں جن میں قرآن کریم بعد از قیامت بھی زندہ و جاوید رہے گا۔چونکہ حافظ در حقیقت اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اس لیے اصل حافظ تو اُسی کی ذات ہے لیکن حفاظ کرام ایسی ہستیاں ہیں جو اس اعلیٰ اور حافظ ہستی کی طرف سے حفاظت قرآن کریم کے اس سلسلہ کی مضبوط اور اہم کڑیاں ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: قرآن کریم کی خدمت اور اس کی حفاظت ظاہری کا کام حفاظ اور قرا کے سپرد ہے۔وہ قرآن کریم کے خادم ہیں اور اس کی حفاظت کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔جس طرح مہر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی چیز باہر سے اندر داخل نہ ہو اور کوئی چیز اندر سے باہر خارج نہ ہو۔اسی طرح اس آیت میں یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم کی خدمت پر ایسے انسان مقرر کیے جائیں گے جو مشک کی طرح خوشبودار ہوں گے۔یعنی وہ اعلیٰ درجہ کے نیک، اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والے اور قرآن کریم کی حفاظت کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوا جس میں حفاظ کی ایک بڑی بھاری جماعت دنیا میں موجود نہ ہو اور قرآن کی خدمت نہ کر رہی ہو۔(تفسير كبير، جلد هشتم صفحه (320)