حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 20
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 20 ہے جس کی قیامت تک کی لفظی و معنوی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ وسلم نے فرمایا : عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَاتَّخِذُوْهُ إِمَامًا وَقَائِدًا، فَإِنَّهُ كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ الَّذِي هُوَ مِنْهُ وَإِلَيْهِ يَعُوْدُ، فَامِنُوْا بِمُتَشَابِهِهِ وَاعْتَبِرُوْا بِأَمْثَالِهِ۔(کنز العمال، كتاب الأذكار من قسم الأقوال، الباب السابع الفصل الأول في فضائل تلاوة القرآن) ترجمہ: تم قرآن کو لازم پکڑو اور اس کو امام اور قائد بنالو کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے جو اس سے نکالا ہے اور اس کی طرف لوٹ جائے گا۔پس اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور اس کی مثالوں سے عبرت وسبق حاصل کرو۔قرآن کریم کے حفاظ: دیگر کتب کے مقابلہ پر قرآن کریم کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ ہر زمانے میں لاکھوں افراد نے اسے حفظ کرنے کی توفیق پائی اور پارہے ہیں۔یہ ایک بڑی خصوصیت ہے کہ کسی بھی زیر، زبر یا نقطہ اور شعشہ کے فرق کے بغیر من و عن پورا قرآن کریم حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔اللہ جل شانہ نے حفاظ کے اس سلسلہ کو قیامت تک قائم رکھنے کا وعدہ فرمایا۔پس وہ جو اصدق الصادقین ہے، اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا سچا خدا ہے اس نے آج تک اپنے وعدہ کو پورا فرمایا ہے اور آئندہ بھی فرما تا چلا جائے گا۔نور کی یہ شعل ایک سینے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے سینہ میں روشن ہوتی چلی جائے گی حتیٰ کہ قیامت برپا ہو جائے۔یہی خدائے لم یزل کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حفاظت قرآن کے مندرجہ ذیل دو بڑے ذریعے متعارف کروائے ہیں: 1: مصاحف 2 قلوب حفاظ پہلا ذریعہ یعنی مصاحف اور اوراق تو اسی دنیا تک ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق قرب قیامت کو قرآن کریم کے حروف اوراق سے اٹھا لیے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے موجود ہے کہ قیامت کے بعد جنت میں بھی قرآن کریم قلوب حفاظ