حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 208
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 208 فَقَدْ طَلَبَ الْخَيْرَ مَكَانَهُ " (شعب الايمان للبيهقي، التاسع عشر من شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن، فصل في استحباب التكبير عند الختم جزء 3 صفحه 432) | ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قرآن کریم کا دور مکمل کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا اور اپنے رب سے بخشش مانگی تو اس نے دراصل بدلہ میں خیر اور بھلائی طلب کی۔ا كَانَ أَنَسٍ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ فَدَعَا لَهُمْ (مسند الصحابة في الكتب التسعة، مسند أنس بن مالك جزء 20 صفحه 495) | ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ جب قرآن کریم کا دور مکمل کرتے تو اپنے بچوں اور اہل خانہ کو جمع کرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔قرآن کریم کا دور مکمل کر کے دوبارہ شروع سے کچھ حصہ پڑھنا مسنون ہے: قرآن کریم خدا کا پیارا کلام ہے، جو اس سے پیار کرتا ہے اس کا دل نہیں کرتا وہ اس کو ختم کر کے رکھ چھوڑے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ قرآن کریم کا دور مکمل کر لینے کے بعد دوبارہ سے شروع کر کے پہلے پارے کا کچھ حصہ ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔چنانچہ روایت ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَالُ المُرْتَحِلُ قَالَ وَمَا الْحَالُ الْمُرْتَحِلُ قَالَ الَّذِي يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ (ترمذی، کتاب القراءت) ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : کون سا عمل اللہ کو پیارا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے