حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 207
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 207 قرآن کریم کا دور مکمل کرنے پر ایک عظیم جامع دعا: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم مکمل ہونے پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِالْقُرْآنِ وَاجْعَلْهُ لِي إِمَامًا وَّنُوراً وَ هُدًى وَرَحْمَةً اللَّهُمَّ ذَكَرُنِي مِنْهُ مَانَسِيتُ وَعَلِمُنِي مِنْهُ مَاجَهِلْتُ وَارْزُقْنِي تِلَاوَتَهُ آنَاءَ اللَّيلِ وَ أَطْرَافَ النَّهَارِ وَاجْعَلْهُ لِي حُجَّةً يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔(احیاء علوم الدين للغزالی، جزء اول صفحه 278) ترجمہ: اے میرے اللہ ! مجھ پر قرآن کریم کی برکت سے رحم فرما اور قرآن کریم کو میرے لیے امام اور نور اور ہدایت اور رحمت بنادے۔اے میرے اللہ ! اس (قرآن) میں سے جو میں بھول جاؤں وہ مجھے یاد دلا دے اور جس کا مجھے علم نہیں وہ مجھے سکھا دے اور رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت میرے نصیب کر۔اور اے رب العالمین ! قرآن کریم کو میرے فائدے کے لیے حجت بنادے۔قرآن کریم کا دور مکمل کرنے کا وقت قبولیت دعا کا وقت : نے فرمایا: حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ۔) المعجم الكبير للطبراني، باب العين، ذكر عرباض بن سارية) ترجمہ: جس نے قرآن کریم ختم کیا اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " :مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَحَمِدَ الرَّبَّ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ