حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 193
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 193 حفظ قرآن کے لیے اداروں کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلی خواہش تھی کہ کوئی ایسا انتظام ہو جس کے ماتحت لوگ قرآن کریم حفظ کریں۔چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک حافظ قرآن مقرر کیا جائے جو قرآن مجید حفظ کرائے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”میرا بھی دل چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا۔تاریخ احمدیت ، جلد سوم صفحه (168) حضرت خلیفہ اسی الثانی نور اللہ مرقدہ نے تحریک فرمائی تھی کہ قرآن کریم کا چرچا اور اس کی برکات کو عام کرنے کے لئے جماعت میں بہ کثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔"تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 1920ء سے قبل حافظ کلاس کا آغاز ہو چکا تھا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ ) نے بھی اس کلاس سے قرآن کریم حفظ کیا تھا۔آپ کے ساتھ بارہ طلبا اس حفظ کلاس میں حفظ کر رہے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ کلاس احمد نگر ، پھر بیت المبارک ربوہ اور جون 1969 ء سے جامعہ احمدیہ کے کوارٹرز اور کچھ دیر بیت حسن اقبال جامعہ احمدیہ میں جاری رہی۔1976ء میں با قاعدہ مدرسۃ الحفظ قائم کیا گیا۔2000ء میں مدرستہ الحفظ کو موجودہ نئی عمارت ( نصرت جہاں اکیڈ می گرلز سیکشن سے متصل راولپنڈی گیسٹ ہاؤس) میں منتقل کیا گیا۔2 دسمبر 2000ء کو برطانیہ میں مدرسہ حفظ قرآن عمل میں آیا جس میں ٹیلی فون اور جزوقتی کلاسوں کے ذریعہ بچوں کو قرآن کریم حفظ کروایا جاتا ہے۔اس کا نام "الحافظون“ رکھا گیا ہے۔" " (بحواله روزنامه الفضل 3 دسمبر 2008ء صفحه 139) اس کے علاوہ قادیان (بھارت)، غانا، نائیجیریا اور کینیڈا میں جامعہ احمدیہ کے ساتھ مدرسۃ الحفظ قائم ہیں۔