حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 190
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 190 میں ہو تب ہی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر سکتے ہیں، تب ہی ہم ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی اس ذمہ داری کو نباہ سکتے ہیں۔قرآن کریم تو ایسی عظیم اور اتنی حسین کتاب ہے کہ اس نے ہمارے مطلب کی کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی۔ہر چیز کو بیان کر دیا ہے۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت 1970ء صفحه 115) حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحم اللہ تعالی و حفظ قرآن کی تحریک: حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 4 جولائی 1997ء کو کینیڈا میں ایک جامع خطبہ۔۔۔۔۔۔۔ارشاد فرمایا جس میں آپ نے جماعت کو تعلیم قرآن کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ہر گھر والے کا فرض ہے کہ وہ قرآن کی طرف توجہ دے۔قرآن کے معانی کی طرف توجہ دے۔ایک بھی گھر کا فرد ایسا نہ ہو جو روزانہ قرآن پڑھنے کی عادت نہ رکھتا ہو میں چاہتا ہوں کہ اس صدی سے پہلے پہلے ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے۔اور ہر گھر میں روزانہ تلاوت قرآن کریم ہو۔کوئی بچہ نہ ہو جسے تلاوت کی عادت نہ ہو۔۔۔۔وہ گھر جس کے بسنے والے خدا کے گھر نہیں بساتے قرآن کریم سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ایسے گھروں کو ویران کر دیا کرتا ہے۔۔ہماری نسلوں کو اگر سنبھالنا ہے تو قرآن کریم نے سنبھالنا ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل 12 اگست 1997 حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک تحریک یہ فرمائی کہ قرآن مجید کی چھوٹی سورتیں اور بعض آیات حفظ کی جائیں۔حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید کے مختلف مضامین پر مبنی آیات کے حفظ کا بہت خیال تھا اور خود بھی خلافت سے قبل بھی اور بعد میں بے انتہا مصروفیات کے باوجود بھی اس کا تعہد فرماتے رہے اور نمازوں میں بدل بدل کر مختلف حصوں کی تلاوت فرماتے۔ان منتخب حصوں کو حفظ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: