حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 186
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 186 (اس پر 286 احباب نے اپنے نام پیش کیے۔ناقل ) قرآن کریم کے 286 رکوع ترتیب وار ان میں تقسیم کر دیے جائیں، اس طرح ہفتہ میں نصف قرآن کریم یاد ہو جائے گا۔اگر اس تحریک کو زیادہ بڑھایا جائے تو ممکن ہے کہ ایک ہفتہ میں پورا قرآن کریم حفظ ہو جایا کرے۔اگر اس طرف توجہ تھوڑی سی بھی کی جائے تو چند سالوں میں سینکڑوں حافظ ہو جائیں گے۔“ (تقریر فرموده 21 جون 1946ء مشعل راه ، جلد اوّل، صفحه (469) | اپریل مئی 1922ء میں حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ کم از کم تھیں آدمی قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں جس پر کئی افراد نے لبیک کہا۔(بحوالہ الفضل 4 مئی 1922ء صفحہ:1) 24 اپریل 1944ء کو دعوئی مصلح موعود کے بعد حضور نے پھر حفاظ پیدا کرنے کی تحریک فرمائی۔(بحوالہ الفضل 26 جولائی 1944 ء صفحہ 3) حضرت مصلح موعود نسور اللہ مرقدہ نے 29 اپریل 1946ء کو تحریک فرمائی کہ قرآن کریم کا چرچا اور اس کی برکات کو عام کرنے کے لیے ہماری جماعت میں بہ کثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔چنانچہ فرمایا: صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ چار پانچ حفاظ مقرر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ بیوت میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھائیں اسی طرح جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے ان کو تر جمہ پڑھا دیں اگر صبح و شام وہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جائے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی ان سے کام لیا جا سکے گا۔بہر حال قرآن کریم کا چر چا عام کرنے کے لیے ہمیں حفاظ کی سخت ضرورت ہے۔انجمن کو چاہئے کہ وہ انہیں اتنا کافی گزارہ دے کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کر سکیں۔پہلے دو چار آدمی رکھ لیے جائیں پھر رفتہ رفتہ اس تعداد کو بڑھایا جائے۔“ الفضل ، 26 اگست 1960، صفحه : 4)