حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 185 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 185

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 185 نیز فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ جو مجھے بہشت میں اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں گا تا حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں، پڑھاؤں اور سناؤں“۔تذكرة المهدى ، جلد اول، صفحه 246) حضرت خلیفة استج الثانی تور انور اللہ مرقدہ اور حفظ قرآن کی تحریکات ہوئے فرمایا: حضرت خلیفہ اسیح الثاني نور الله مرقدہ نے 7 دسمبر 1917ء کو حفظ قرآن کریم کی تحریک کرتے ”جو لوگ اپنے بچوں کو وقف کرنا چاہیں وہ پہلے قرآن کریم حفظ کرائیں کیونکہ مربی کے لیے حافظ قرآن ہونا نہایت مفید ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں اگر بچوں کو قرآن حفظ کرانا چاہیں تو تعلیم میں حرج ہوتا ہے لیکن جب بچوں کو دین کے لیے وقف کرنا ہے تو کیوں نہ دین کے لیے جو مفیدترین چیز ہے وہ سکھالی جائے۔جب قرآن کریم حفظ ہو جائے گا تو اور تعلیم بھی ہو سکے گی۔میرا تو ابھی ایک بچہ پڑھنے کے قابل ہوا ہے اور میں نے تو اس کو قرآن شریف حفظ کرانا شروع کر دیا ہے۔ایسے بچوں کا تو ،، جب انتظام ہوگا تو اور جو بڑی عمر کے ہیں وہ آہستہ آہستہ قرآن حفظ کرلیں گے۔“ الفضل 22 دسمبر 1917ء۔خطبات محمود جلد 5 صفحه: 612) | حضرت خلیفہ المسح الثاني نور اللہ مرقدہ مزید فرماتے ہیں: ” دوسری چیز جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ قرآن کریم حفظ کرنا ہے۔یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے مگر افسوس ہے اس طرف بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔حفاظ دن بہ دن کم ہوتے جارہے ہیں۔قرآن کریم حفظ کرنے کی عادت ڈالنے کے لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ کچھ ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو ایک حصہ قرآن کریم کا حفظ کریں اور اس طرح مجموعی طور پر کئی قرآن کریم کے حافظ بن جائیں۔جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوادیں۔