حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 176
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 176 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے جب یہ آیت سنی وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا “ (النساء:42) آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور فرمایا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گواہ گزرنے پر خیال گزرا ہوگا۔ہمیں خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عربی کلام میں فرماتے ہیں: (ملفوظات جلد سوم صفحه 162,161) كِتَابٌ كَرِيمٌ حَازَ كُلُّ فَضِيلَةٍ وَيُسْقِى كُرُوسَ مَعَارِفَ وَيُوَفَّرُ ترجمہ: قرآن کریم ایسی بزرگ کتاب ہے جو تمام فضیلتوں کی جامع ہے ، یہ معارف کے جام پلائے جاتی ہے اور بس نہیں کرتی۔طَرِيٌّ طَلَاوَتُهُ وَ لَمْ تَعْفُ نُقْطَةٌ بمَاصَانَهُ اللَّهُ الْقَدِيرُ الْمُوَقِّرُ ترجمہ: اس کی تازگی سدا بہار ہے اور اس کا ایک نقطہ بھی کم نہیں ہوا کیوں کہ خدائے قدیر عظیم نے اس کی حفاظت کی ہے۔إِذَا مَا تَلا مِنْ آيَةٍ طَالِبُ الْهُدَى يرى نُورَهُ يَجْرِى كَعَيْنِ وَيُمْطِرُ ترجمہ : جب کوئی طالب ہدایت اس کی کوئی آیت تلاوت کرتا ہے۔تو اس کا نور کسی چشمہ کی طرح بہنے اور بارش کی طرح برسنے لگتا ہے۔