حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 175
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 175 موقع پر مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک حافظ قرآن مقرر کیا جائے جو قرآن مجید حفظ کرائے۔آپ نے فرمایا میرا بھی دل چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا“ (تاریخ احمدیت ، جلد سوم صفحه (168) ایک حافظ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کی کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کی میری منزل ٹھہر جائے مگر نا کامیاب ہی رہتا ہوں۔دعا فرمائیے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ قرآن خود یہ خاصیت رکھتا ہے کہ اس نقص کو رفع کر دے۔محبت سے پڑھتے رہو۔ہم بھی دعا کریں گے۔“ (ملفوظات، جلد دوم، صفحه (544) | حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کے بچے عاشق تھے یہاں تک کہ قرآن آپ کی روح کی غذا بن گیا تھا۔ایک دفعہ آپ سیر کے لئے تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ حافظ محبوب الرحمان صاحب بھی تھے۔آپ نے حافظ صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز ان سے قرآن شریف سنا کریں گے۔مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ صحیح ، خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہو تو اس سے سنا کروں۔پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا کہ آج آپ سیر میں کچھ سنائیں۔چنانچہ تھوڑی دور جا کر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الحانی سے سورۃ الدہر پڑھی۔(ملفوظات، جلد 5 صفحہ 197) ایک دفعہ آپ علیہ السلام کے سر میں بہت درد ہو رہا تھا تو آپ علیہ السلام نے انہی حافظ صاحب موصوف سے قرآن سنانے کو کہا۔چنانچہ جب انہوں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو آپ علیہ السلام کو سر درد سے آرام آ گیا۔آپ علیہ السلام کے دل کا نقشہ تو یہ تھا کہ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے