حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 174 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 174

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 174 عاشق قرآن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن کریم کے ساتھ بے پناہ عشق تھا۔ہر وقت اس کے مطالعہ میں مواور مستغرق رہتے تھے۔اس خشوع و خضوع سے تلاوت کرتے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔جہاں ایک طرف آپ نے قرآن کریم کے بحر ذخار میں سے موتی نکال کر دنیا کو دیے ، وہاں فلسفی اور ہیئت دانوں کے قرآن کریم پر بھی اعتراضات کا بھی کافی وشافی جواب دیا۔پھر اپنی جماعت کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا: " تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اس میں زندگی ہے۔جولوگ قرآن کو عزت دیں گے آسمان پر عزت پائیں گے۔جولوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19، صفحه 13) سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔“ ”ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں“۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو ، تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔“ (ملفوظات،جلداول صفحہ 386) تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کر وایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو، کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا الْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرْآن که تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔“ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 27) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلی تمنا تھی کہ آپ علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت قرآن کریم سے وابستہ ہو جائے اور یہ بھی آپ علیہ السلام کی دلی خواہش تھی کہ کوئی ایسا انتظام ہو جس کے ماتحت لوگ قرآن کریم حفظ کریں۔چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس