حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 169
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 169 پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ”قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔اسی طرح اور بہت سے گریجوایٹ اور دوسرے لوگ حافظ ہیں۔جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔چوہدری سر ظفر اللہ صاحب حج فیڈرل کوٹ آف انڈیا ( حال وزیر خارجہ پاکستان ) کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ تقریباً ساٹھ سال کے تھے چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔حافظ غلام محمد صاحب سابق مربی (-) ماریشس نے تین مہینہ میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔نواب جمال الدین خاں صاحب جو ایک سابق والیہ ریاست بھوپال کے خاوند تھے ، ان کے ایک نواسے مجھے حج میں ملے تھے جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ انہوں نے ایک مہینہ میں سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا۔۔۔۔میرے جدا مجد مرزا گل محمد صاحب جو عالمگیر ثانی کے وقت میں تھے باوجود اس کے کہ کوئی بہت بڑے رئیس نہیں تھے، ان کی ریاست صرف اڑھائی مربع میل کے علاقہ پر حاوی تھی ان کے دربار میں پانچ سو حافظ موجود رہتا تھا۔ہندوستان جیسے ملک میں جو عربی زبان سے بہت ہی نا واقف ہے بعض حصے ایسے پائے جاتے ہیں جن میں صدیوں سے اکثر لوگ حافظ چلے آتے ہیں۔(دیباچه تفسير القرآن، صفحه 277 ) اس زمانہ میں بعض لوگ قرآن کریم کے حفظ کو فضول کام سمجھتے ہیں، اس کے الفاظ رٹنے کو حماقت بتلایا جاتا ہے، اس کے الفاظ یاد کرنے کو دماغ سوزی اور تضیع اوقات کہا جاتا ہے۔اکثر مسلمان اپنی اولاد کو تعلیم قرآن کی بجائے دنیاوی تعلیم اعلیٰ سے اعلیٰ دلانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، عام تاثر یہ ہے کہ دنیاوی تعلیم سے اولاد کی زندگی سنور جاتی ہے، ترقی کی راہیں کھلتی ہیں، معاشرہ میں عزت کا مقام ملتا ہے۔حالانکہ یہ سب باتیں خوف خدا، فکر آخرت اور اسلامی معاشرہ روح اسلام سے دور لے جاتی ہیں۔