حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 166
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 166 میں معجزانہ طور پر فتح کر لیا تھا۔اگر حفظ سے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے تو پھر یہ حفاظ کس طرح دنیا سے آگے نکل گئے ؟ ان فاتحین نے صرف غلبہ ہی حاصل نہ کیا بلکہ مفتوح علاقوں میں تہذیب و تمدن کی بنیاد ڈالی اور علوم وفنون کو ترقی دی۔صرف یہ لوگ ہی حافظ قرآن نہ تھے بلکہ اسلامی افواج کی کثیر تعداد بھی حفاظ پر ہی مشتمل ہوتی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب جھوٹے مدعیان نبوت سے برسر پیکار ہونا پڑا تو جنگ یمامہ میں لشکر اسلام کے شہدا میں صرف حفاظ کی تعداد سات سو تک جا پہنچی تھی۔(عمدۃ القاری جزء 20 کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن صفحہ 16) یہ فتح نصیب قوم بقول ابن وراق کے ان لوگوں پر مشتمل ہوتی تھی جن کی ذہنی صلاحیتیں حفظ قرآن کے نتیجہ میں کند ہو چکی تھیں۔لا حول ولا قوة الا باالله ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام کی بے مثال کامیابیاں دیکھ کر دنیا آج بھی انگشت بدنداں ہے۔نافع بن عبد الحارث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عصفان میں ملے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اہل مکہ کا والی مقرر کیا ہوا تھا، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سلام کیا۔آپ نے ان سے دریافت کیا کہ تم نے وادی مکہ میں اپنا قائم مقام کس کو مقرر کیا ہے؟ نافع نے عرض کیا کہ میں نے ابن ابی کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ابن ابزای کون ہے؟ نافع نے عرض کیا۔اے امیر المؤمنین ! وہ حافظ قرآن اور علم الفرائض کا ماہر ہے۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارا فیصلہ ٹھیک ہے۔(الداری ، کتاب فضائل القرآن، باب ان الله يرفع بهذا القرآن اقواماً۔۔۔) یہی تو وہ درست فیصلے تھے جن کی وجہ سے غیر معمولی فتوحات نصیب ہوئیں۔“ الذكر المحفوظ، مصنفه احسان الله دانش، صفحه 352 353)