حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 147 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 147

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 147 ربیع الاول 11 ہجری میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل تمام قرآن لکھوا دیا تھا مگر وہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا مختلف اصحاب کے پاس بکھرا ہوا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب بطور خلیفہ اوّل ہوا اور ابتدا میں ہی آپ کو پے در پے مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں سے ایک زبر دست فتنہ جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کی شورش و بغاوت کا تھا۔اس سلسلہ میں سب سے بڑا معرکہ مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے مقام پر ہوا۔اس معرکہ میں دونوں لشکروں کا بھاری نقصان ہوا۔شہید ہونے والے مسلمانوں میں سات سوقراء وحفاظ تھے اور بعض کے نزدیک ان کی تعداد اس سے بھی زائد تھی۔" (عمدة القارى جلد 20 فضائل القرآن باب جمع القرآن صفحه 16) عربوں کا حافظہ عربوں کا حافظہ بھی بہت اچھا ہوتا تھا اس لیے ان کو قرآن کریم حفظ کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی تھی۔اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ”سیرۃ خاتم النبین میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ایک حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا حافظہ ایک مثالی حافظہ تھا۔وہ لوگ اپنے نسب نامے یادر کھتے اور ہزاروں ہزار شعر یا درکھتے۔تحریر کا رواج عام نہ ہونے کی وجہ سے حافظہ کی طاقت کس قدر غیر معمولی طور پر بڑھ چکی تھی۔اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لا تكتبو اعنى سوى القرآن (مسنداحمد مبل الباقی من المکثرین مندابی سعید الخدری) کی تعمیل میں آپ کے اقوال اور احادیث زیادہ تر حافظہ کی بنیاد پر یاد رکھی جاتی تھیں اور ان کے حفظ کا با قاعدہ انتظام نہیں تھا۔صحابہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور