حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 138
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 138 رکھیں کہ قرآن کریم حفظ کرنا ہے تو بعد میں اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے ساری زندگی تیار رہیں۔اس طرح کہ حفظ کر کے اس کو یاد بھی رکھیں اور بعد میں منزل کی مسلسل دہراتے رہیں۔اس سلسلہ میں والدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچے کو حفظ کروانے کے بعد اس بات کی فکر کریں کہ وہ حفظ کو یاد بھی رکھے اور بعد میں مسلسل دہرائی کرتا رہے۔یہ بڑی بھاری ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں تبھی تو وہ ان انعامات اور برکات کے وارث بنیں گے جن کی خوشخبری احادیث میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔حافظ قرآن کو روزانہ دو پارے منزل دہرانے کی کوشش کرنی چاہیے یا کم از کم ایک پارہ منزل یاد کرنے کا معمول زندگی بھر رکھنا چاہئے۔ہر ماہ قرآن کریم کا ایک دور کم از کم ضرور مکمل کرنا چاہئے۔ماہ رمضان میں نماز تراویح میں مکمل قرآن سنانے کا دور کرنا چاہئے۔اس کے لیے اچھی اور بھر پور تیاری ہونی چاہئے جس سے حفظ بہت پختہ رہے گا۔دو حافظ قرآن ساتھی مل کر ایک دوسرے کو منزل سنائیں اور اس طرح قرآن کریم کا دور کریں تو زیادہ مفید رہتا ہے۔روزانه با قاعدگی سے تلاوت صدر کے طریق پر منزل کی دہرائی کی جائے۔دہرائی کے لیے ایک وقت مخصوص کر لیا جائے تو مناسب رہتا ہے۔حفاظ کرام کو ترتیل کے ساتھ روزانہ تلاوت یعنی حسن قراءت کی مشق بھی کرنی چاہئے۔ا حفظ کرنے اور قائم رکھنے کے لیے دعا ایک بنیادی کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔اپنی کامیابی کے لیے باقاعدہ دعائیں کریں۔دعاختم القرآن "اللهم ارحمنى با القرآن۔۔۔۔بہت جامع اور عظیم دعا ہے۔اس کو التزاماً روزانہ پڑھیں۔قرآنی دعائیں بھی کثرت سے پڑھیں۔