حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 137
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 137 اس سے سابقہ سات اسباق سنے جائیں اور اگر چھٹیاں یا غیر حاضریاں زیادہ ہوں تو پہلے منزلوں کا دوراس سے سنا جائے اس کے بعد آگے سبق شروع کر وایا جائے۔ہی تکمیل حفظ کے بعد دہرائی کے طور پر منزل سنی جائے اور اس کے بعد قرآن کریم کے کم از کم تین دور مکمل کرنا ضروری ہیں۔اس کا طریق کار یہ ہے کہ دہرائی کا پہلا دور ایک ایک سپارہ کر کے ، دوسرا دور دو(2) دو (2) سپارہ کر کے اور تیسرا دور تین تین سپارے سن کر مکمل کیا جائے۔اس طرح حفظ کیا ہوا قرآن کریم انشاء اللہ یا در ہے گا اور بھولنے کا اندیشہ کم سے کم رہ جائے گا۔اس کے بعد روزانہ کم از کم ایک پارہ کی دہرائی کو زندگی بھر کا معمول بنا لینا چاہئے۔حفظ کیا گیا قرآن کریم ( منزل) یا در کھنے کے لیے ضروری نصائح: احادیث میں حافظ کو حامل قرآن یعنی قرآن کریم کا بوجھ اٹھانے والا کہا گیا ہے۔پس حافظ قرآن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے ظاہری الفاظ کی حفاظت کرے، اس کو یادر کھے اور اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اس کی تعلیمات کی بھی حفاظت کرے۔بعض لوگ اپنے بچوں کو حفظ تو کرا دیتے ہیں اور اس کو فخر کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں مگر اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ یہ بچہ اس دولت کی قدر و حفاظت بھی کر سکے گا یا نہیں؟ مثلاً حفظ کرنے کے بعد دنیاوی تعلیم یا دیگر سرگرمیوں کی ایسی مصروفیت ہو جاتی ہے کہ حافظ دہرائی چھوڑ دیتا ہے یا سرسری تھوڑا سا پڑھ لیتا ہے۔اس طرح ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔پس والدین کی ذمہ داری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو بچہ کو قرآن کریم کی اہمیت کے اعتبار سے یاد بھی کرواتے رہیں اور دہرائی بھی کرواتے رہیں تا کہ کسی بھی کام میں مصروف ہونے کے باوجود بچہ کے ذہن و دل میں قرآن کریم کی محبت اور اہمیت اجا گر رہے اور وہ دہرائی کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر اس سے کبھی بھی غفلت نہ برتے۔یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جو حافظ دہرائی نہیں کرتے ، قرآن کریم آہستہ آہستہ ان کے ذہن سے تو ہو جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بہت سا حصہ بالکل بھول جاتا ہے۔اس حصہ کو دوبارہ یاد کرنے کے لیے سخت ترین محنت اور مشقت کرنا پڑتی ہے۔اس لیے طلبا اور والدین خصوصاً یہ بات مدنظر