حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 136
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 136 طرح اوقاف کا خاص خیال رکھا جائے۔آیت کی نشانی اور طہم کی علامت پر ضرور وقف کرے۔اگر درمیان میں وقف کرنا پڑے تو اعادہ جملہ سے ہو۔ایک ضروری بات ہے کہ طالب علم یاد کرتے وقت جلدی جلدی نہ پڑھے بلکہ ہر حرف کی ادا ئیگی اس طرح عمدگی سے کرے کہ ہر حرف سمجھ آ رہا ہو۔اگر تیز تیز پڑھے گا تو یہی عادت پختہ ہو جائے گی۔اس بارے میں اس کتاب میں دی گئی احادیث کو یا درکھیں۔طالب علم کو اس بات کی تاکید کی جائے کہ اونچی آواز سے قرآن کریم پڑھے اور اونچی آواز سے ہی قرآن کریم پڑھ کر یاد کرے، اس طرح زیادہ اچھی طرح یاد ہو گا۔طالب علم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے اندر مسابقت کی روح اور جذ بہ اجاگر کیا جائے تو یہ اس کی کامیابی میں بہت مؤثر ہوگا۔طالب علم کو بدنی سزا نہ دی جائے بلکہ مناسب تنبیہ کی جائے سختی کی بجائے شفقت اور پیار سے سمجھایا جائے۔حفظ کی ابتدا آخری یعنی تیسویں پارہ سے کرنے میں طالب علم کے لیے آسانی ہوتی ہے۔بہتر ہے کہ آخری چند سپارے پہلے حفظ کرائے جائیں۔آخری پاروں میں چونکہ سورتیں اور آیات چھوٹی ہیں اس لیے یاد کرنے میں سہولت رہتی ہے۔دوسرا فائدہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ آخری سپارے جو پہلے حفظ کیسے ہوں وہ زیادہ پختہ یا درہتے ہیں اور دیر پا ہوتے ہیں۔پہلے دس پاروں تک حفظ کیا ہوا قرآن کریم یعنی منزلیں نصف پارہ سے زیادہ نہ سنی جائیں اور دس پارے حفظ کر لینے کے بعد منزل ایک پارہ سے کم نہیں ہونی چاہئے۔دوران حفظ چھٹیاں بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔اول تو حافظ قرآن کو چھٹیوں کا تصور بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر منزل دہرانے سے چھٹی ہو جائے تو قرآن کریم بھولنا شروع ہو جائے گا۔اگر کسی وجہ سے چھٹیاں کرنا بھی پڑیں تو جیسے ہی طالب علم چھٹیوں کے بعد واپس آئے تو آگے یاد کروانے سے پہلے