حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 134
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 134 بچہ حفظ تو کر لیتا ہے مگر عدم دلچسی کی وجہ سے یاد نہیں رکھ پاتا اور دہرائی نہ ہونے کی وجہ سے بھولنا شروع ہو جاتا ہے اس سے بجائے فائدہ اور ثواب کے گناہ ہوتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ اگر بچہ کوحافظ قرآن بنانا ہے تو بچپن ہی سے بچے کے دل میں قرآن کریم کی محبت ڈالیں اور حفظ کے بعد اس بات کی فکر کریں کہ وہ حفظ کر کے اس کو یاد بھی رکھے اور بعد میں مسلسل دہرائی کرتا رہے۔احادیث میں حافظ کو حامل قرآن یعنی قرآن کریم کا بوجھ اٹھانے والا کہا گیا ہے۔پس حافظ قرآن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے ظاہری الفاظ کی حفاظت کرے، اس کو یادر کھے اور اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اس کی تعلیمات کی بھی حفاظت کرے۔طالب علم کی طرف سے موانع : بعض اوقات طالب علم کی طرف سے ہی موانع پیش آتے ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں: طالب علم کا حافظہ کمزور ہے اور ایک دومرتبہ کہنے سے الفاظ تو زبان پر چڑھ جاتے ہیں اور وقتی طور پر یاد بھی ہو جاتا ہے لیکن بعد میں یاد نہیں رہتا۔طالب علم کا ذہن کمزور ہے اور ایک آیت ہیں پچیس مرتبہ دہرانے سے یاد ہوتی ہے لیکن جلد ہی بھول بھی جاتی ہے۔کام میں سنجیدگی نہیں ہوتی۔کام کی بجائے شرارتوں کی طرف زیادہ توجہ رہتی ہے۔ذہانت کی وجہ سے یا دتو جلد ہو جاتا ہے اور یا در بتا بھی ہے مگر شرارتوں کی وجہ سے ذہن اس طرف متوجہ نہیں رہتا۔گھر میں دوسرے بہن بھائی کھیل کود، تفریح، ٹی وی یا کمپیوٹر وغیرہ میں مصروف ہوتے ہیں تو اس طالب علم کی بھی توجہ خراب ہوتی ہے جو حفظ قرآن کریم کی راہ کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔طالب علم کسی دماغی یا جسمانی کمزوری اور بیماری کا شکار ہوتب بھی اس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔مسلسل بے تو جہی کا شکار رہنے کی وجہ سے دل بھی اچاٹ ہو جاتا ہے۔پوری توجہ اور سنجیدگی اور ذاتی شوق نہیں ہے۔ان امور کے بارے میں طالب علم کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔