حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 117
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ۔117 ترجمہ: جب ہڈیاں گل سڑ جائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟ اس کے جواب میں کہا جائے: يُحْيِهَا الَّذِي أَنْشَاهَا أَوَّلَ مَرَّةً وَّ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيم۔ترجمہ: ایسی ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر فتم کی خلق کا خوب علم رکھنے والا ہے۔آیت نمبر 82 میں اَوَلَيْسَ الَّذِى خَلَقَ السَّمواتِ وَ الْأَرْضَ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ۔ترجمہ: کیا وہ (خدا) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ ان کی طرح کی اور مخلوق پیدا کر دے؟ جواب: بَلَى وَ هُوَ الْخَلْقُ الْعَلِيمُ۔ایسا خیال ( کہ وہ پیدا نہیں کر سکتا ) درست نہیں بلکہ وہی پیدا کرنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔سورۃ واقعہ کے رکوع نمبر 2 اور 3 میں فرمایا: فَسَبِّحُ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ تو اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کر۔اس کے جواب میں سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہا جائے کہ پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا۔اس بارے میں روایت ہے: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ) قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليهِ وسَلَّم اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ (ابوداود، كتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده) ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں کہ جب سورۃ الواقعہ کی آیت ” فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی کہ اپنے عظیم رب کے نام کے ساتھ تسبیح کر، تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے رکوع میں رکھو۔