حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 110 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 110

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 110 سجدہ تلاوت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلاوت قرآن کے وقت یہ طریق تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور سجدہ کا ذکر ہوتا ہے وہاں تلاوت روک کر سجدہ کرتے۔حفاظ قرآن کو کثرت سے تلاوت قرآن کا موقع ملتا ہے، دورانِ تلاوت جہاں اللہ کی اطاعت اور سجدہ کا ذکر ہو وہاں تلاوت روک کر سجدہ کرنا چاہئے۔جو حفاظ سجدہ تلاوت نہیں کرتے ان کو یہاں توجہ سے سجدہ بجالا نا چاہیے۔اگر سجدہ والی آیت بار بار پڑھ کر یا د کر رہے ہیں تو پہلی بار جب پڑھیں تو سجدہ کر لیں۔قرآن میں ایسے پندرہ مقام ہیں جہاں سجدہ کرنا چاہئے۔بعض نے چودہ کہا ہے، وہ سورۃ ص کے سجدہ کو ضروری نہیں سمجھتے اور اس کو مستحب کہتے ہیں۔ہمارے مروجہ قرآن میں پندرہ مقام کی ہی نشان دہی کی گئی ہے۔فقہا میں سے احناف سجدہ تلاوت کو واجب قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک آیت سجدہ پر قاری کے لئے سجدہ کرنا لازمی ہے۔دیگر آئمہ اسے سنت قرار دیتے ہیں۔قرآن کریم میں اس سلسلہ میں واضح ارشاد موجود ہے۔فرمایا : * إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِايَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّداً (السجده: 16) ترجمہ: ہماری آیات پر ایمان لانے والے وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں یہ آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمُ يَاتُ الرَّحْمَانِ خَرُّوا سُجَّداً وَبُكِياً (مريم: 59) ترجمہ: جب ان ( بندگان الہی ) پر خدائے رحمن کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے ہیں۔فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا (النجم: 63) ترجمہ: پس تم اللہ کے حضور سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔