حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 109
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 109 تلاوت کے عیوب : تمطيط : حرکات کو غیر ضروری لمبا نہ کریں۔مثلاً : لَمِنَ الْمُرْسَلِين۔اس میں ” لَمِنَ“ کو ” لا مِنَ“ نہ پڑھا جائے۔تطنین : یعنی بلا وجہ ناک میں نہ پڑھیں ، تمام حروف صاف ادا کریں۔مثال: إِنَّا الرَّحْمَانُ۔یہاں نا اور مَا پڑھتے ہوئے آواز صاف رہے،غنہ نہ ہو۔همهمه: مخفف کو مشدد یا مشدد کو مخفف نہ پڑھیں۔مثال : فَصَلِّ لِرَبِّكَ، اَلرَّحْمَانُ الرَّحِيمِ، سَبَّحَ عنعنہ ہمزہ میں مین کی آواز یائین میں ہمزہ کی آواز نہ ملائیں۔مثال: الْمُؤْمِنُ ، نَعْبُدُ ترعید : گرجدار آواز میں پڑھنا، جھٹکے کے ساتھ پڑھنا درست نہیں قرآنی الفاظ کو درست اور صاف طریق سے پڑھنے کی کوشش کریں۔حروف کو بھینچ کر یا ملا کر نہ پڑیں۔مثال: اَعُوذُ بِااللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ دوران تلاوت سر کو زور زور سے حرکت نہ دیں نہ ہی چہرے پر بناوٹ ، تکلف اور تکالیف کے آثار پیدا کیے جائیں۔دوران تلاوت دنیاوی گفتگو سے پر ہیز کیا جائے۔پاؤں یا جسم کے غیر موزوں اعضا کو ہاتھ نہ لگائے جائیں۔