حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 105
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 105 تلاوت میں جلدی منع ہے: قرآن مجید کی تلاوت اطمینان، سکون اور وقار سے کرنی چاہئے۔قرآن کریم کلام الہی ہے اور اس کی تلاوت دل جمعی ، محبت اور ادب کے سارے تقاضے ملحوظ رکھ کر کرنا ہی مناسب ہے۔جلد جلد اور غیر معمولی تیز رفتار سے تلاوت کرنا آداب تلاوت کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ان الفاظ میں ہدایت فرمائی ہے: وَلَا تَعْجَلُ بِالْقُرْآنِ۔(طه: 17) کہ تو قرآن کے پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر۔نیز فرمایا: لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (القيمة: 17) کہ تو قرآن کو جلدی جلدی پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: اس کے معنے یہ ہیں کہ پڑھنے والا جب قرآن پڑھے تو جلدی نہ کرے۔“ حقائق الفرقان جلد چهارم ، صفحه : 272) پس قرآن مجید کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے سکون سے ٹھہر ٹھہر کر اور آہستہ آہستہ تلاوت کرنی چاہئے تا کہ اس کا مفہوم بھی سمجھ میں آسکے اور اللہ تعالیٰ کی باتیں دل میں اترتی جائیں اور انسان خود کو ان پر عمل کے قابل بنا سکے۔بعض لوگ تیز رفتاری اور زیادہ پڑھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں۔چنانچہ حدیث میں ایسے افراد کا ذکر کر کے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔صحیح مسلم میں آتا ہے کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا كَهَذَ الشَّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًايَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب ترتيل القراءة) ترجمہ: میں سب مفصل سورتیں یعنی سورۃ الحجرات سے آخر قرآن تک ایک ہی رکعت میں پڑھ جاتا ہوں۔یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم تو قرآن مجید کو اس طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو جس طرح ہذیان کی صورت میں اشعار