حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 104
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 104 سات دن میں قرآن کریم کا ایک دور مکمل کر لیا کرو اور اس سے نہ بڑھو کیونکہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے, تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور خود تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضى الله عنهما قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ قَالَ فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلَّم إِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي أَلَمُ أَخْبَرُ أَنَّكَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَالِكَ إِلَّا الْخَيْرَ۔۔۔۔قَالَ وَاقْرَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ۔قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ۔قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ۔قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعِ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَالِكَ۔فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا (مسلم، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر ایک روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کتنی دیر میں قرآن کریم کا ایک دور مکمل کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک رات میں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقْرَرِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً حَتَّى قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعِ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَالِكَ۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرأ القرآن ترجمہ: ایک مہینہ میں قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرو۔(حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ کی توفیق ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر ایک ہفتہ میں مکمل کر لیا کرو اس سے زیادہ جلدی نہ کرو۔