حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 103 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 103

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 103 قرآن کریم کے ظاہری آداب کا لحاظ رکھا جائے قرآن کریم ہاتھ میں پکڑ کر دنیاوی گفتگو یا ادھر ادھر کی باتوں سے پر ہیز کرنا چاہیے۔نیز قرآن کریم زیادہ وقت پڑھتے پڑھتے بعض لوگ ( حفاظ بھی) اس امر کا خیال نہیں رکھتے کہ بعض دفعہ قرآن کریم نیچی جگہ پر رکھ دیتے ہیں، بعض دفعہ صحیح طرح سے قرآن کریم نہیں پکڑتے ، اور بعض قرآن کریم کا پیچھا کر دیتے ہیں، قرآن کریم کے ظاہری آداب کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔کن اوقات میں تلاوت کرنا مقبول ہے؟ آداب تلاوت کے ضمن میں یہاں تک راہنمائی فرمائی کہ ایسے مبارک اوقات بھی بتا دیے کہ دن اور رات کی کن گھڑیوں میں تلاوت قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ پسندیدہ ہے۔ان میں سے ایک وقت فجر کا ہے جب کہ انسانی ذہن مکمل طور پر سکون ، تازہ دم اور ہشاش بشاش ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایا: أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل : 79) ترجمہ: سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور ( بوقت ) فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔یقیناً فجر کے وقت قرآن پڑھنا مقبول ہے۔دن رات میں قرآن کریم کی کتنی مقدار تلاوت کی جائے: حیحین سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ہر رات قرآن کریم کا ایک دور مکمل کرتے ہیں تو ان سے فرمایا کہ ایک مہینہ میں ایک بار قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرو۔انہوں نے عرض کیا حضور ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔فرمایا اچھا تو پھر ہر میں دن میں ایک دور مکمل کر لیا کرو، انہوں نے پھر عرض کیا کہ حضور ! مجھ میں اس سے بھی زیادہ ہمت ہے۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تو پھر دس دن میں ایک دور مکمل کر لیا کرو۔انہوں نے پھر عرض کیا حضور! میں اپنے اندر اس سے بھی زیادہ ہمت پاتا ہوں۔فرمایا تو پھر