حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 94
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 94 علم تجوید کی غرض و غایت: علم تجوید کی غرض و غایت یہی ہے کہ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا جائے اور حروف کی ادا ئیگی ٹھیک طور پر کی جائے تا کہ تلاوت کا حق ادا کیا جا سکے اور اس کا اجر و ثواب پورے طور پر تلاوت کرنے والے کو عطا ہو۔علم تجوید و قراءت کی تاریخی حیثیت: قرآن کریم کی صحیح تلفظ کے ساتھ تلاوت آغاز اسلام سے ہی لازمی قرار دی گئی اور اشاعت اسلام کے مختلف ادوار میں خلفاء راشدین نے بھی اس سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے۔سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قواعد تجوید مرتب کرنے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب عجمی لوگ کثرت سے حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے۔اہل عرب کی مادری زبان چونکہ عربی تھی اس لیے ان کو تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن عجمیوں اور عربوں کے باہمی اختلاط سے خدشہ پیدا ہوا کہ اب لوگ قرآن کریم کی غلط تلاوت نہ شروع کر دیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام مسلمانوں کے لئے قرآن کریم کی تعلیم لازمی قرار دے دی اور اس سلسلہ میں ابو اسود دوئلی سے فرمایا کہ وہ قواعدِ نَحو تحریر کریں۔قواعد نحو تحریر کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ نجمی لوگوں کو قرآن کریم کی قراءت میں غلطیوں سے بچایا جائے۔علم تجوید کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ صحیح اور معروف طریق پر صحت تلفظ کا خیال رکھتے ہوئے قرآن کریم کی تلاوت کریں۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے قرآن کریم کے سات نسخے تیار کروائے اور ان میں تمام قراء توں کو جمع کر دیا۔ان نسخوں کا نام مصاحف عثمانی مشہور ہوا۔آپ نے ان مصاحف کو اسلامی مملکت کے معروف شہروں میں بھجوایا اور تاکید فرمائی کہ آئندہ انہی مصاحف کے مطابق قرآن کریم کی اشاعت اور تلاوت ہو۔