حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 81
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 81 قرآن کریم حفظ کرنے کی عمر قرآن کریم کم عمری میں حفظ کرنا زیادہ مفید ہے: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي شَبِيْبَتِهِ اخْتَلَطَ بِلَحْمِهِ وَدَمِهِ۔وَمَنْ تَعَلَّمَ فِي كِبْرِهِ فَهُوَ يَنْفَلِتُ مِنْهُ وَلَا يَتْرُكُهُ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ۔(میزان الاعتدال، ذكر عمر بن طلحة بن علقمة بن وقاص، جزء 3 صفحه (209) | ترجمہ: جو شخص کم عمری میں قرآن کریم سیکھتا ( حفظ کرتا ) ہے تو وہ ( جزو بدن بن کر) گویا اس کے گوشت پوست اور خون میں رچ بس جاتا ہے اور جو بڑی عمر میں سیکھتا ہے اسے قرآن کریم جلدی بھول جاتا ہے۔ہاں اگر وہ اسے ( قرآن کریم کو پڑھنا) ترک نہ کرے ( مسلسل دہرائی کرتا رہے ) تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔قَالَ عَلْقَمَةُ: مَا حَفِظْتُ وَأَنَا شَابٌ فَكَأَنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي قِرْطَاسٍ أَوْ وَرَقَةٍ (المعرفة والتاريخ، ما جاء في علقمة بن قيس النخعي، المجلد الثاني، صفحه 320) | ترجمہ: حضرت علقمہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے نو جوانی میں جو کچھ یاد کر لیا تھا ، وہ اس طرح محفوظ ہے گویا میں اسے کتاب کے اوراق میں دیکھ رہا ہوں۔عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا نَاشِءٌ نَشَأَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَالْعِبَادَةِ حَتَّى يَكْبُرُ وَهُوَ عَلَى ذَالِكَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ سَبْعِيْنَ صِدِّيقًا (جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر، باب فضل التعلم في الصغر والحض عليه، جزء اول، صفحه (397) ترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جولڑ کا طلب علم اور عبادت میں نشو ونما پاتا ہے یہاں تک کہ بڑا ہو جاتا ہے اور اپنی اسی حالت پر استوار رہتا ہے تو اسے ستر صدیقوں کا ثواب ملتا ہے۔