حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 74
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 74 پر وحی کے ذریعہ نازل نہیں کیا گیا۔پس حامل قرآن کے لیے ہرگز مناسب نہیں کہ اس کے سینے میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور وہ کسی بات پر غصہ کرے یا پھر جاہلوں کے ساتھ جہالت سے پیش آئے۔نام و نمود، دکھاوے اور شہرت کے طالب حافظ اور قاری کے لیے انذار : قرآن کریم کی تلاوت ، معانی سیکھنے اور حفظ کرنے کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں سکتا جب تک اس کے احکام یعنی اوامر و نواہی پر عمل نہ کیا جائے۔ایسا قاری اور حافظ تو محض نمود نمائش کے لیے تلاوت کرتا ہے تا کہ لوگ اس کی تعریف کریں اور کہیں کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے اور اس کی قراءت بہر حال عمدہ ہے۔پس تلاوت قرآن کریم کرنے والا ایسا مسلمان جو محض تلاوت کرتا ہے لیکن قرآنی تعلیمات پر عمل نہیں کرتا اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں رہتی۔وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل احترام اور قابل عزت نہیں رہتا: عَن عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ۔يَأْتِي قَوْمٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، يَقُولُونَ: مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ مَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ: هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ، قَالُوا: لَا ، قَالَ: أُولَئِكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، أُولَئِكَ وَقُودُ النَّارِ۔(مسند البزار، مسند العباس بن عبد المطلب، جزء2 صفحه 218) ترجمہ: حضرت عباس بن عبدالمطلب روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو ڈینگیں ماریں گے کہ ہم سے بڑا قاری کون ہے؟ ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں ایسے لوگوں میں کوئی بھلائی والی بات دکھائی دیتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔ہرگز نہیں ! اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ تم میں سے اور اسی امت میں سے ہی ہوں گے لیکن وہ دوزخ کی آگ کا ایندھن ہوں گے۔