حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 51
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 51 فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن کریم اور میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے روک دیا میں اس کو مانگنے والوں سے بہت زیادہ عطا کرتا ہوں۔حفظ قرآن سب سے بڑا انعام ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و دنیا کے انعامات اور نعماء میں سے سب سے بڑا انعام اور نعمت قرآن کریم کو قرار دیا ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا علم دیا ہو اور وہ آگے اس کو پھیلا تا ہو اور خود بھی اس کی تلاوت کرتا اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہو تو یہ نعمت اس کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں ہے بلکہ دنیا کی ہر ایک نعمت قرآن کریم کے سامنے بیچ ہے۔چنانچہ اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَرَأَى أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِمَّا أُعْطَى فَقَدْ عَظَمَ مَا صَغَرَ اللَّهُ وَصَغَرَ مَا عَظَمَ اللَّهُ (کنز العمال جلد 1 - صفحه 525، كتاب الاذكار من قسم الاقوال ، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله الفصل الاول في فضائل تلاوة القرآن | ترجمہ: جس نے قرآن کریم پڑھا پھر کسی اور کے متعلق یہ خیال کیا کہ اُس کو مجھ سے افضل نعمت بخشی گئی ہے تو اس نے اُس نعمت کو بڑا سمجھا جس کو اللہ تعالیٰ نے چھوٹا قرار دیا ہے اور اس نعمت یعنی قرآن کریم کو چھوٹا سمجھا جس کو اللہ نے عظمت عطا فرمائی ہے۔حفظ قرآن کریم کی قدرومنزلت : حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں حفظ قرآن کریم کی اتنی قدر تھی کہ ایک غریب صحابی جس کے پاس حق مہر مقرر کرنے کے لیے کچھ بھی موجود نہ تھا ، نہ رقم ، نہ جائداد اور نہ ہی کوئی اور ساز وسامان تھا۔ان کو قرآن کریم کی چند سورتیں یاد تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور مہر وہی چند سورتیں قبول فرما کر ان کا نکاح پڑھ دیا۔اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری میں کچھ یوں بیان کی گئی ہے: