حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 46 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 46

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 46 ترجمہ: قرآن کریم پڑھو۔یقینا اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے ) دل کو عذاب نہیں دے گا جس نے قرآن کریم زبانی یاد کیا۔اسی مضمون کی ایک اور روایت ہے: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَقُولُ إِقْرَأَوْا الْقُرْآنَ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُعَذِّبْ قَلْبًا وَعَى الْقُرْآنَ۔(مصنف ابن ابي شيبة ، كتاب فضائل القرآن، باب في الوصية بالقرآن وقراءته) ترجمہ: حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قرآن مجید کے یہ نسخے جو تمہارے گھروں میں پڑے ہوئے ہیں تمہیں حفظ کرنے سے غفلت میں نہ ڈال دیں۔یاد رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے دل کو عذاب نہیں دے گا جس میں قرآن کریم محفوظ ہو۔حافظ کی غیر حافظ پر فضیلت: قرآن کریم تمام صحائف آسمانی میں سے سب سے افضل ہے۔یہ جس پر نازل ہوا وہ تمام انبیاء سے افضل نبی ہے۔پس لازم ہے کہ جو بھی اس کی تلاوت کرتا ہو، اس پر عمل کرتا ہو اور اس کو یا درکھتا ہو وہ بھی عام انسانوں سے افضل ہو۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظ قرآن کی دوسرے لوگوں پر فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: فَضْلُ حَمَلَة الْقُرْآنِ عَلَى الَّذِي لَمْ يَحْمِلْهُ كَفَضْلِ الْخَالِقِ عَلَى الْمَخْلُوْقِ (فردوس الأخبار الديلمي - جلد 3 - صفحه 148 ، حدیث نمبر (4232 | ترجمہ:۔حامل قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ایسی ہے جیسے خالق کی فضیات مخلوق پر ہے۔یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظ قرآن کی بجائے حامل قرآن کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔اس سے نہ صرف حافظ قرآن مراد ہے بلکہ ایسا شخص مراد ہے جو حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ اس