حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 40 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 40

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات حافظ قرآن اسلام کا علم بلند کرنے والا : 40 قرآن کریم چونکہ ایک ضابطہ حیات ہے اور اسلام کی بنیاد اس پر اور اس کی تعلیمات پر ہے اس لیے گویا یہ اسلام کا ایک جھنڈا ہے اور حافظ قرآن کی حیثیت اس شخص کی ہے جس نے یہ جھنڈا اٹھایا ہوا ہے۔جھنڈا کسی بھی قوم کے تشخص کی علامت ہوتا ہے اور قرآن کریم بھی چونکہ اسلام کا جھنڈا ہے جو حافظ قرآن کریم کے سینہ میں ہوتا ہے اور حافظ قرآن کریم اسلام کا وقار بلند کرتا ہے اس لیے اسلام کا جھنڈا اٹھانے والے کی عزت و تکریم قائم کرنا نہایت درجہ ضروری امر ہے۔چنانچہ حضرت ابوامامہ باہلی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَامِلُ الْقُرْآنِ حَامِلُ رَأيَةِ الْإِسْلَامِ مَنْ أَكْرَمَهُ فَقَدْ أَكْرَمَ اللَّهَ وَمَنْ أَهَانَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (فردوس الأخبار الديلمي - جلد 2 - صفحه 214 ـ زیر لفظ ”ح“) ترجمہ: حاملِ قرآن اسلام کا علم بردار ہے۔پس جس نے اس کی عزت کی ، بے شک اس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی اور جس نے اس کی اہانت کی کوشش کی تو اُس پر عزت اور جلال والے اللہ کی لعنت ہے۔حاملین قرآن کے پانچ فضائل : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کرام کو کئی ایک خوش خبریاں عطا فرمائی ہیں، جن میں سے ایک خوشخبری یہ بھی ہے کہ ان کو دیگر امتیوں کی نسبت پانچ فضائل عطا کئے جائیں گے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الْقُرْآنُ أَفْضَلُ مِنْ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ وَقَرَ الْقُرْآنَ فَقَدْ وَقَرَ اللَّهَ وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ اسْتَخَفَّ بِحَقَّ اللَّهِ تَعَالَى حَمَلَةُ الْقُرْآنِ هُمُ الْمَحْفُوفُونَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ الْمُعَظَّمُوْنَ كَلَامَ اللَّهِ الْمُلَبِسُوْنَ نُوْرَ اللَّهِ فَمَنْ وَّالَهُمْ فَقَدْ وَالَى اللَّهَ وَمَنْ