حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 32 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 32

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 32 فضائل حفظ قرآن از روئے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کوقرآن کریم سے جو عشق تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سے ظاہر وباہر ہے۔حتی کہ امہات المؤمنین اور صحابہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود قرآن کریم کی عملی تفسیر و تصویر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کی تحریری صورت قرآن کریم ہی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک بار ایک صحابی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے بارے میں پوچھا تو اس کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں مجھ سے کیا پوچھتے ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مجسم قرآن تھے۔گویا جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کیسی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں حفظ قرآن کریم کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔حافظ قرآن کو اس کی پیدائش سے بہت پہلے فرشتوں کی مبارک باد: حدیث قدسی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَرَأَ طه ويسَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوْبِي لِأُمَّةٍ يُنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا وَطُوْبَي لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا وَطُوبَى لِألْسِنَةِ تَتَكَلَّمُ بِهَذَا۔(سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن باب في فضل سورة طه ويس) ترجمہ:۔اللہ عزوجل نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے سے ایک ہزار سال قبل