حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 12 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 12

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 12 کی قدر و منزلت ہوتی تھی اور عرب کی رسم تکریم سے اس کی خاص تائید ہوتی۔ان کی قوت حافظہ انتہائی معیار کی تھی اور اس کو وہ لوگ قرآن کے لیے یہ کمال سرگرمی کام میں لاتے۔ان کا حافظہ ایسا مضبوط اور ان کی محبت ایسی قوی تھی کہ حسب روایات قدیم اکثر اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پیغمبر کی دیات ہی میں بڑی صحت کے ساتھ تمام وحی کو اپنے حافظے سے پڑھ سکتے تھے۔“ (ترجمه از لائف آف محمد، مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1877ء- صفحه 552،551 ) پس قرآن کریم کو حفظ کرنا نہ صرف باعث اعزاز ہے بلکہ موجب شرف و افتخار بھی ہے۔دراصل ہر مسلمان کی فلاح اور آخرت کے انعامات حاصل کرنے کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ جو آج ہمارے درمیان موجود ہے یہی خدا کا کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے تمام خالفا تعلیم قرآن کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔چاہیے کہ ہم خود بھی اور ہماری نسلیں بھی قرآن کریم کا فیض پائیں۔اس کے احکام پر عمل پیرا ہو کر آخرت کے بے شمار انعامات پائیں اور اُخروی عذاب سے نجات کے سامان کریں۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس عظیم کلام کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اس کو زبانی یا دکر کے اپنے سینوں میں خدا کا نورا تارتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ اور خصوصاً جماعت احمدیہ کو بہ کثرت ایسے افراد دے، جن کے دل قرآنی انوار کا مجمع ہوں اور وہ علوم قرآن کے حامل ، اس کی تعلیمات پر عامل اور بنی نوع انسان کو قرآن کریم سے محبت کرنا سکھا دیں۔آمین خاکسار محمد مقصود احمد منیب مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ