حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 196 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 196

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 196 مکرم حافظ پرویز اقبال صاحب، مکرم حافظ ملک منور احسان صاحب ، مکرم حافظ عبد العلیم صاحب ، مکرم حافظ جواد احمد صاحب، مکرم حافظ ناصر احمد صاحب اور مکرم حافظ محمد شعیب صاحب بطور اساتذہ خدمات بجالا رہے ہیں۔دیگر عملہ ان کے علاوہ ہے۔مدرستہ الحفظ میں تدریسی لحاظ سے طلباء کو چھ احزاب میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے نام درج ذیل ہیں۔1۔احمد حزب۔2۔نور حزب۔-3 محمود حزب۔4۔ناصر حزب۔5۔طاہر حزب۔6۔دوہرائی کلاس۔مدرستہ الحفظ میں اس وقت 140 طلباء کی گنجائش ہے۔بیرون ربوہ سے آنے والے طلباء کے لیے ہوٹل میں 53 طلباء کی گنجائش موجود ہے۔ہوٹل کے طلبا کے لئے نماز فجر کے بعد آدھا گھنٹہ اور نماز عشا کے بعد دو گھنٹے سٹڈی ٹائم ہوتا ہے۔تدریسی اوقات کار چھ گھنٹے ہوتے ہیں جس میں طلبا اپنے سبق، گزشتہ سات دنوں کے اسباق اور منزل (حفظ کئے ہوئے پاروں کی بالترتیب دوہرائی) سناتے ہیں۔تمام طلبا کا ہفتہ وار اور ماہانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔مدرسة الحفظ کے طلبا کے لئے علمی ، ذہنی اور روحانی تعلیم کے ساتھ جسمانی تربیت بھی دی جاتی ہے اور با قاعدہ کھیل کا وقت مقرر ہے۔طلبا کے مطالعہ کے لئے مدرسہ میں ایک لائبریری قائم کی گئی ہے جس میں سیرت تعلیم و تربیت، اخلاقیات اور معلومات پر مشتمل کتب و رسائل رکھے گے ہیں۔سمعی و بصری کے تحت تلاوت قرآن کی سی ڈیز (CDs) اور آڈیو کیسٹ رکھی گئی ہیں۔مدرستہ الحفظ میں قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے تین سال اور دہرائی کے لئے مزید چھ ماہ کا کورس مقرر ہے۔پہلے سال آٹھ ، دوسرے سال دس اور تیسرے سال بارہ پارے حفظ کرنے ہوتے ہیں۔حفظ مکمل کرنے کے بعد دومرتبہ دوہرائی کروائی جاتی ہے۔دومرتبہ دوہرائی کے بعد حافظ قرآن طلبا کا امتحان پہلے ادارے میں لیا جاتا ہے۔اور بعد میں Examiner External امتحان لیتے ہیں۔آجکل محترم حافظ مظفر احمد صاحب یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔امتحان پاس کرنے والے طلبا کو مدرسہ