حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 181
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 181 ان کے والد صاحب محترم ماہ رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کے لیے خوش الحان حافظ کا ہر سال انتظام فرمایا کرتے تھے۔ایک سال ایسا ہوا کہ رمضان المبارک شروع ہونے میں ایک یا دو دن باقی تھے ، آپ کی مجلس میں کسی مرید نے دریافت کیا کہ امسال تراویح کے لیے کس حافظ صاحب کا انتظام کیا ہے؟ فرمایا ہم نے کوئی انتظام نہیں کیا کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ اس سال قرآن کریم ہمیں ( حافظ ) مختار صاحب سنائیں گے۔حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ وہ یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا۔اچھا ابا حضور : اس سال ہم ہی قرآن سنائیں گے۔ہم گھر آگئے اور والدہ محترمہ سے عرض کیا کہ میں کچھ دن اوپر چوبارے میں قیام کروں گا۔رمضان میں مجھے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔میرا کھانا فلاں جگہ رکھ دیا جایا کرے اور افطاری اور سحری کے وقت یہی معمول رہے ، میں خالی برتن اس جگہ رکھ دیا کروں گا۔مجھے صرف 29 پارے حفظ کرنے تھے کیونکہ تیسواں پارہ مجھے یاد تھا۔اس طرح ہم نے صرف ایک ماہ میں قرآن کریم حفظ کر لیا اور خدا کے فضل سے آج تک حافظ ہیں۔“ ( حیات حضرت مختار، مصنفہ ابوالعارف سلیم شاہجہانپوری ، صفحہ 213 214) حضرت قطب الدین صاحب کے بارہ میں حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب کی روایت ہے۔احمدیت نے ایسی تبدیلی پیدا کی کہ وہ ہر وقت قرآن مجید پڑھتے رہتے تھے اور اس طرح قرآن مجید کے حافظ ہو گئے۔ایک بات جو آپ میں خاص تھی وہ یہ کہ آپ جب صبح بل جو تنے کے لئے جایا کرتے تو اپنے ساتھ قرآن بھی لے جاتے تھے آپ کے دوسرے ساتھی آرام کے لئے حقہ وغیرہ لے لیتے لیکن آپ وہیں وضو کرنے کے بعد قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہتے۔الفضل، 19 مارچ 2001ء صفحه 9) حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے عشق قرآن کا ایک واقعہ یوں ہے۔حضرت خلیفہ اصیح الاول نور اللہ مرقدہ نے رمضان شریف میں سارے قرآن مجید کا درس دینا تھا۔ادھر بھائیوں کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ والد مرحوم کی جائیداد کے انتقال کے لئے فلاں روز پہنچنا ضروری ہے۔آپ نے سوچا کہ اس طرح تین دن صرف ہو کر تین سیپارے کے درس سے محروم ہو جائیں گے۔اُن کو اطلاع دی کہ میں قادیان درس قرآن میں شمولیت کے لئے جا رہا ہوں خواہ میرے نام انتقال ہو یا نہ ہو۔