حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 146
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 146 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریک اور خواہش کی تکمیل کے لیے صحابہ نے حیرت انگیز نمونہ دکھایا۔قرآن کریم بکثرت حفظ کیا جانے لگا۔صحابہ نے اس وارفتگی اور اس شان سے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں حفاظ صحابہ کی اتنی کثیر تعداد تیار ہوگئی کہ بلا مبالغہ ہزاروں تک ان کی تعداد جا پہنچی۔کیا بچے کیا جوان اور کیا بوڑھے، کیا عورتیں اور کیا مرد، سب حفظ قرآن کے میدان میں بڑھ چڑھ کر عشق و محبت اور اخلاص و وفا کے بے نظیر جذبات کے ساتھ معرکے سر کرنے لگے۔حفاظ صحابہ کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ غزوہ اُحد کے بعد قبیلہ رعل ، ذکوان، عصیۃ اور بنولحیان کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ایسا نمونہ دکھایا کہ سمجھا گیا کہ یہ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے انصار مدینہ میں سے 70 حفاظ وقراء کا ایک بڑا گر وہ ان کے ساتھ روانہ کر دیا تا کہ مذکورہ قبائل کے لوگ کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں۔یہ حفاظ مدینہ میں قراء کے نام سے مشہور تھے۔ان لوگوں نے راستہ میں دھوکہ دے کران حفاظ کو شہید کر دیا۔(بخاری، کتاب الجهاد و السير، باب العون بالمدد) صرف انصار مدینہ میں سے ستر (70) حفاظ کا بھجوایا جانا بتاتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں حفاظ کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور تعلیم القرآن کے سلسلہ میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد مختلف قبائل میں جا کر نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کے لیے جایا کرتے تھے۔چنانچہ بعض اور بھی واقعات ملتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل میں دس دس پندرہ پندرہ قراء صحابہ کے وفود تعلیم القرآن کے لیے بھیجا کرتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حفاظ کی کثرت کا یہ حال تھا کہ صرف ایک جنگ یعنی جنگ یمامہ میں شہدا میں صرف حفاظ کی تعداد سات سو (700) اور بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ تھی۔چنانچہ بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن میں درج اس واقعہ کے بارہ میں بخاری کی ایک معروف شرح عمدۃ القاری میں لکھا ہے: