حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 145 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 145

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات ہفت بذریعہ حفظ قرآن : 145 تاریخ حفاظت قرآن حفاظت قرآن کے باب میں ایک بے نظیر اور اہم طریقہ حفظ قرآن کریم ہے جو امت مسلمہ میں پہلی آیت کے نزول سے لے کر آج تک رائج ہے۔یہ طریقہ بظاہر تو انسانی ذرائع میں سے ایک معلوم ہوتا ہے مگر ادنی سے تدبر سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حفظ قرآن بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ کو حفاظت قرآن کے باب میں ایک بے نظیر الہی عطا ہے۔اگر یہ انسانی طاقت میں ہوتا تو دوسرے مذاہب اپنی اپنی کتب کو محفوظ رکھنے کے لئے ضرور اس طریقہ کو استعمال کرتے مگر صرف قرآن کریم کو یہ خصوصیت حاصل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کتاب کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی جناب سے یہ خاص انتظام فرمایا تھا۔اگر ایسا انسانی طاقت میں ہوتا تو لازما اور بھی مثالیں ملتیں۔پس قرآن کریم کی کامل حفاظت کے لئے حفظ قرآن کا بے مثل وسیلہ خالصہ البہی عطا ہے۔ابتدا سے ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی تحریر کروانے کے بعد سنتے اور پھر تسلی کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو حفظ کراتے اور پھر اس کی اشاعت ہوتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی جن کا کام تھا کہ وہ پہلے خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم حفظ کر لیں اور پھر دیگر صحابہ کو حفظ کروائیں۔روایات میں حضرت عبداللہ بن مسعوددؓ، حضرت سالم مولی ابی حذیفہ ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ بن جبل " جیسے کبار صحابہ کے نام ملتے ہیں۔(بخاری ،کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن) یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ بہت سے جاں نثار صحابہ فوری طور پر قرآن کریم کی تازہ بہ تازہ نازل ہونے والی وحی کو فور احفظ کر لیا کرتے تھے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی حفظ قرآن کی فضیلت پر بہت زور دیتے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوصحابہ کی ایسی جماعت عطا فرمائی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اشارہ پر عمل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی تھی اور جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتی تھی۔