حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 99 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 99

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 99 حفظ وقراءت کے ساتھ قرآن کے علم و فہم کی ضرورت: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سَيَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ تَكْثِرُ فِيْهِ الْقُرَّاءُ وَ تَقِلُّ الْفُقَهَاءُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ الْهَرَجُ قَالُوا : وَ مَا الْهَرَجُ يَا رَسُوْلِ اللهِ ؟ قَالَ الْقَتْلُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَالِكَ زَمَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيْهِمْ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَالِكَ زَمَانٌ يُجَادِلُ الْمُنَافِقُ الْكَافِرُ الْمُشْرِكْ بِاللَّهِ الْمُؤْمِنَ بِمِثْلِ مَا يَقُوْلُ (مستدرك حاكم كتاب الفتن والملاحم، باب التناكح في الطرق من علامات القيامة) ترجمہ: عنقریب میری اُمت پر ایک زمانہ آئے گا جس میں قاریوں کی کثرت ہوگی اور فقہا کی قلت ہوگی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور ہرج یعنی قتل وغارت بڑھ جائے گی۔پھر اس کے بعد ایک زمانہ آئے گا جس میں میری اُمت کے لوگ قرآن کریم تو پڑھیں گے لیکن قرآن کریم ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔پھر اس کے بعد ایک زمانہ آئے گا جس میں خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا مؤمن سے (عقائد و اعمال اور تو حید کے باب میں ) جھگڑا کرے گا۔قرآن کو گانے ، نوحہ اور یہود و نصاری کے انداز میں پڑھنے کی ممانعت: عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اِقْرَءُ وا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا، وَإِيَّاكُمْ وَلُحُونَ أَهْلِ الْفِسْقِ وَأَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ مِنْ بَعْدِى قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهَبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مَفْتُونَةٌ قُلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شانهم (شعب الايمان للبيهقي، التاسع عشر، باب فی تعظيم القرآن، فصل في ترك التعمق في القرآن، جزء8 صفحه 208) | ترجمہ: حضرت حذیفہ بن الیمان سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم