حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 97
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 97 جائے اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے۔۔۔بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں۔“ (ملفوظات جلد۔سوم - صفحه 265) سورۃ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ظاہری صورت پر نظر ڈال کر دیکھو کیسی رنگینی عبارت اور خوش بیانی اور جودت الفاظ اور کلام میں کمال سلاست اور نرمی اور روانی اور آب و تاب اور لطافت وغیرہ لوازم حسنِ کلام اپنا کامل جلوہ دکھا رہے ہیں۔“ (تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ، جلد اول، صفحه 8،سورة فاتحه) قراءت کا مجہول طریق: عربی کے علاوہ دیگر زبانوں خصوصاً ہمارے ملک میں پنجابی اور اردو لہجہ میں بھی قرآن کریم پڑھ لیا جاتا ہے اس کو مجہول طریق کہا جاتا ہے۔قرآن کریم کو معروف عربی طریق یعنی عربی لب ولہجہ میں صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر تجوید کے قواعد کا علم نہ ہو تو شوق اور لگن سے یہ قواعد معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تجوید اور قراءت سیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔قرآن کریم کے الفاظ ادا کرتے ہوئے احتیاط سے پڑھیں تو معمولی توجہ سے ہی ان غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں قرآن کریم کی تلاوت اچھے حفاظ اور قراء حضرات کی آواز میں سننا بھی بہت مفید ہے۔آجکل تلاوت قرآن کریم کی DVDs،CDs اور کیسٹس عام ہیں اور انٹرنیٹ پر بھی معروف حفاظ اور قراء کی تلاوت قرآن کریم سنی جا سکتی ہے۔فن تجوید وقراءت ایک سائنس : اُمت مسلمہ نے صرف تلاوت کی کثرت کی حد تک ہی لبیک نہیں کہا بلکہ اطاعت کا ایک بے مثل نمونہ اس طرح بھی قائم کیا کہ تلاوت قرآن کریم کو با قاعدہ ایک سائنس کی شکل دی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں ، قرآن کریم کی تلاوت کے