حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 96 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 96

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 96 تلاوت قبول نہ کی جائے اور عشق قرآن میں ڈوبے ہوئے ایسے شخص کی تلاوت قبول کر لی جائے جس کو تجوید اور صحت تلفظ کا علم ہی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے علم تجوید و قراءت کی اہمیت: تجوید وقراءت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ” اَدَاءُ الْحُرُوفِ مِنْ مَخَارِجِهَا“ یعنی حروف کو ان کے مخارج سے نکال کر ادا کرنا۔اس کی اہمیت کے بارے میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقْرَءُ واالْقُرْآنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا کہ تم عربوں کے لب ولہجہ اور ان کی آواز میں تلاوت قرآن کریم کی کوشش کرو۔یہ فرمان بلاتفریق اہل عرب و عجم سب کے لئے ہے حالانکہ عربوں کی مادری زبان عربی ہے ، ان کے لئے تو فن تجوید کی کوئی مشکل نہیں۔البتہ اس فن کو حاصل کرنے کی عجمیوں یعنی غیر عرب لوگوں کو بہت ضرورت ہے۔اہل عرب قدرتی طور پر اپنی زبان کے ماہر ہوتے ہیں لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو جوسب کے سب عرب تھے قراءت کی تعلیم دی، اساتذہ تیار کئے پھر انہوں نے آگے دوسروں کو قراءت سکھائی۔یہ بات قابل غور ہے کہ اگر عربوں کے لئے قراءت سیکھنا ضروری تھا تو ہمیں اس علم کو سیکھنے کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن تمہارا محتاج نہیں پر تم محتاج ہو کہ قرآن کو پڑھو، سمجھو اور سیکھو جب کہ دنیا کے معمولی کاموں کے واسطے تم استاد پکڑتے ہو تو قرآن شریف کے واسطے استاد کی ضرورت کیوں نہیں؟“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه 245) ایک اور جگہ پر فرمایا: ”ہم ہرگز یہ فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کریم کا صرف ترجمہ پڑھا