ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 48

48 ہدایات زریں ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔اگر ہم ساری دنیا کے لوگوں کو مسلمان بنالیں مگر ان کو چھوڑ دیں تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چوہڑے چمار تھے اس لئے ہم نے ان کو مسلمان نہیں بنایا۔خدا تعالیٰ نے ان کو بھی آنکھ، کان، ناک، دماغ ، ہاتھ پاؤں اسی طرح دیئے ہیں جس طرح اور وں کو دیئے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کا غلط استعمال کر کے انہیں خراب کر لیا ہے اگر ان کی اصلاح کر لی جائے۔تو وہ بھی ویسے ہی انسان بن سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے۔چنانچہ مسیحیوں میں بعض چوہڑوں نے تعلیم پا کر بہت ترقی کر لی ہے۔ان کے باپ یادا دا عیسائی ہو گئے اور اب وہ علم پڑھ کے معزز عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور معزز سمجھے جاتے ہیں۔پس اگر ان لوگوں کی اصلاح کر لی جائے تو یہ بھی اوروں کی طرح ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمارے مبلغوں کو اس طرف بھی خیال کرنا چاہئے اور ان لوگوں میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے۔سولہویں ہدایت سولہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے ملنا جلنا جانتا ہو۔بہت لوگ اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس سے کام نہیں لیتے۔لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس طرح بہت اعلیٰ نتائج نکلتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء میں لوگوں کے خیموں میں جاتے اور تبلیغ کرتے تھے وہ لوگ جو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں، وہ عام لیکچروں میں نہیں آتے ان کے گھر جا کر ان سے ملنا چاہئے۔اس طرح ملنے سے ایک تو وہ لوگ باتیں سُن لیتے ہیں۔دوسرے ایک اور بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔اور وہ یہ کہ اگر کبھی کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو اگر یہ لوگ ظاہری مدد نہیں دیں