ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 47

47 ہدایات زریں اس میں عموم کے لحاظ سے سب انسان آگئے ان کو پیغام الہی پہنچاناہمارا کام ہے۔پس کسی قوم اور کسی فرقہ کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھا جائے۔مبلغ کا کام پہنچانا ہے اور جس کو پہنچانے کے لئے کہا جائے اسے پہچانا اس کا فرض ہے۔اسے یہ حق نہیں کہ جسے ذلیل سمجھے اسے نہ پہنچائے اور جسے معزز سمجھے اسے پہنچائے۔مگر ہمارے مبلغوں میں یہ نقص ہے کہ وہ ادنیٰ اقوام چوہڑوں چماروں میں تبلیغ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ بھی خدا کی مخلوق ہے اسے بھی ہدایت کی ضرورت ہے ان کو بھی تبلیغ کرنی چاہئے اور سیدھے رستہ کی طرف لانا چاہئے۔عیسائیوں نے ان سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے اور اس سے زیادہ ہندوستان میں ایسی اقوام کے لوگوں کو عیسائی بنالیا ہے۔جتنی ہماری جماعت کی تعداد ہے اور اب ان لوگوں کو کونسل کی ممبری کی ایک سیٹ بھی مل گئی ہے ہمارے مبلغ اس طرف خیال نہیں کرتے۔حالانکہ ان لوگوں کو سمجھانا بہت آسان ہے۔ان کو ان کی حالت کے مطابق بتایا جائے کہ دیکھو تمہاری کیسی گری ہوئی حالت ہے۔اس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دوسرے انسانوں میں ملنے جلنے کے قابل بناؤ۔اس قسم کی باتوں کا ان پر بہت اثر ہوگا۔اور جب انہیں اپنی ذلیل حالت کا احساس ہو جائے گا اور اس سے نکلنے کا طریق انہیں بتایا جائے گا تو وہ ضرور نکلنے کی کوشش کریں گے۔ان کو کسی مذہب کے قبول کرنے میں سوائے قومیت کی روک کے اور کوئی روک نہیں ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی۔ہمارے ہاں جو چو ہڑیاں آتی ہیں تبلیغ کرنے پر کہتی ہیں ، ہم مسلمان ہی ہیں مگر ہم اپنی قوم کو کیونکر چھوڑ دیں۔یہ روک اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ دس پندرہ میں گھر اکٹھے کے اکٹھے مسلمان ہو جائیں اور ان کی قوم کی قوم بنی رہے جیسا کہ یہ لوگ جب عیسائی ہوتے ہیں تو اکٹھے ہی ہو جاتے ہیں۔پس ان میں تبلیغ کرنے کی