ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 25

25 ہدایات زریں اعمال سے کوئی طمع یا لالچ پیدا بھی ہو تو وعظ کرنا بالکل چھوڑ دینا چاہئے اور تو بہ واستغفار کرنا چاہئے اور جب وہ حالت دُور ہو جائے پھر بے غرض ہو کر کھڑا ہونا چاہئے۔اور وعظ کے ساتھ اپنے اندر اور باہر سے لوگوں پر ثابت کر دینا چاہئے کہ وہ ان سے کوئی ذاتی فائدہ اور نفع کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ چاہتا ہے۔جب کوئی مبلغ اپنے آپ کو ایسا ثابت کر دیگا تو اس کے وعظ کا اثر ہوگا ورنہ وعظ بالکل بے اثر جائے گا۔اسی طرح دوسرے وقت میں بھی سوال کرنے سے واعظ کو بالکل بچنا چاہئے۔سوال کرنا تو یوں بھی منع ہے اور کسی مؤمن کے لئے پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن اگر واعظ سوال کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وعظ اسی وجہ سے ہی کرتا ہے۔پس یہ نہایت ہی نا پسندیدہ بات ہے اور واعظوں کو خاص طور پر اس سے بچنا چاہئے ورنہ ان کے وعظ کا اثر زائل ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔دوسری ہدایت دوسری بات واعظ کے لئے یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ دلیر ہو۔جب تک واعظ دلیر نہ ہو اس کی باتوں کا دوسروں پر اثر نہیں پڑتا اور اس کا دائرہ اثر بہت محدودرہ جاتا ہے کیونکہ وہ انہی لوگوں میں جانے کی جرات کرتا ہے جہاں اس کی باتوں پر واہ واہ ہوتی ہے۔لیکن اگر دلیر ہوتا تو ان میں بھی جاتا جو گالیاں دیتے، دھکے دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہیں اور اس طرح اس کا حلقہ بہت وسیع ہوتا۔ہماری جماعت کے مبلغ سوال کرنے سے تو بچے ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت میں غناء کی حالت بھی پائی جاتی ہے۔مگر یہ کمزوری ان میں بھی ہے کہ جہاں اپنی جماعت کے لوگ ہوتے ہیں وہاں تو جاتے ہیں اور وعظ