ہدایاتِ زرّیں — Page 24
24 ہدایات زریں کا ظاہری نمونہ بھی ہوں اور پھر جذبات بھی ان میں موجود ہوں۔یوں تو ہر وقت ہی ہوں مگر تقریر کرتے وقت خاص طور پر ابھرے ہوئے ہوں۔یہ جو باتیں میں نے بتائی ہیں یہ تو اصولی ہیں۔اب میں کچھ فروعی باتیں بتاتا ہوں جو ہر ایک مبلغ کو یا درکھنی چاہئے۔پہلی ہدایت سب سے پہلے یہ ضروری بات ہے کہ مبلغ بے غرض ہوا اور سننے والوں کو معلوم ہو کہ اس کی ہم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ورنہ اگر مبلغ کی کوئی ذاتی غرض ان لوگوں سے ہوگی تو وہ خواہ نماز پر ہی تقریر کر رہا ہو گا سننے والوں کو یہی آواز آرہی ہوگی کہ مجھے فلاں چیز دے دو۔فلاں دے دو۔مسلمانوں کے واعظوں میں یہ بہت ہی بُری عادت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اپنے وعظ کے بعد کوئی غرض پیش کر کے امداد مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔اس سے سننے والوں کے ذہن میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ وعظ کرنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے اور اسے ایک فرض سمجھا جاتا ہے۔یہ ایسی بری رسم پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی واعظ وعظ کر رہا ہو تو سننے والے حساب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ہم اس میں سے کس قدر مولوی صاحب کو دے سکتے ہیں اور کتنا گھر کے خرچ کے لئے رکھ سکتے ہیں۔اس رسم کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مولوی وعظ کے بعد مانگتے ہیں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیا پرم جائے۔اس کا بہت برا اثر ہو رہا ہے۔کیونکہ واعظ کی باتوں کو توجہ اور غور سے نہیں سنا جاتا۔پس واعظ کو بالکل مستغنی المزاج اور بے غرض ہونا چاہئے۔اگر کسی وقت شامت