ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 45

45 ہدایات زریں دخل نہیں دیتا چونکہ آپ سب کے ساتھ ایک ہی تعلق رکھتے تھے اس لئے آپ کو مد مقابل بنانے کے لئے صحابہ تیار نہ ہوئے۔اور اس بات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر کے دخل دینا چھوڑ دیا۔یہ چونکہ جنگی لحاظ سے ایک مقابلہ تھا اس لئے آپ الگ ہو گئے ورنہ ایسی باتیں جو تفریح کے طور پر ہوتی ہیں ان میں آپ شامل ہوتے تھے۔چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ گھوڑ دوڑ میں آپ نے بھی اپنا گھوڑا دوڑایا۔اس قسم کی باتوں میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔غرض مبلغ کو بھی ایسی باتوں میں کسی فریق کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے جو مقابلہ کے طور پر ہوں اور بالکل الگ تھلگ رہ کر اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ اس کے نزدیک دونوں فریق ایک جیسے ہی ہیں۔چودہویں ہدایت چودہویں بات یہ ضروری ہے کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ میر اعلم کامل ہو گیا ہے۔بہت لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا علم مکمل ہو گیا ہے اور ہمیں اور کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں ہے۔کیونکہ علم کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔میں تو علم کی مثال ایک رستہ کی سمجھا کرتا ہوں جس کے آگے دور ستے ہوجائیں پھر اس کے آگے دو ہو جائیں اور پھر اس کے آگے دو۔اسی طرح آگے شاخیں ہی شاخیں نکلتی جائیں اور اس طرح کئی ہزار رستے بن جائیں۔یہی حال علم کا ہوتا ہے۔علم کی بیشمار شاخیں ہیں اور اس قدر شاخیں ہیں جن کی انتہاء ہی نہیں۔پس علم کا خاتمہ شاخوں کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس کا خاتمہ جڑ کی طرف ہے کہ وہ ایک ہے اور وہ ابتداء ہے جو جہالت کے بخارى كتاب الجهاد و السير باب التحريض على الرمی و قول الله تعالى۔۔۔الخ