ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 26

26 ہدایات زریں کرتے ہیں لیکن جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں نہیں جاتے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں مخفی طور پر واہ واہ سننے کی عادت جاگزیں ہوتی ہے۔وہ دورے کرتے ہیں اور بیس ہیں دفعہ جاتے ہیں مگر انہی مقامات پر جہاں پہلے جاچکے ہیں اور جہاں احمدی ہوتے ہیں اور جس جگہ کوئی احمدی نہ ہو وہاں اس خیال سے کہ ممکن ہے کہ کوئی گالیاں دے یا مارے نہیں جاتے۔حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت انہی مقامات پر جانے کی ہوتی ہے جہاں کوئی احمدی نہ ہو۔کیونکہ جہاں بیج ڈال دیا گیا ہے وہاں وہ خود بڑھے گا۔اور جہاں ابھی بیج ہی نہیں پڑا وہاں ڈالنا چاہیئے اور خدا تعالیٰ کی بھی یہی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کسی ایک جگہ ساری کی ساری جماعت نہیں ہوتی بلکہ متفرق طور پر ہوتی ہے۔اسی قادیان میں دیکھ لو یہاں کے سارے باشندوں نے حضرت مسیح موعود کو نہیں مان لیا۔بلکہ اشد ترین مخالف یہاں ہی ہیں مگر بٹالہ کے کچھ لوگوں نے آپ کو مان لیا پھر وہاں بھی سب نے نہیں مانا بلکہ اکثر مخالف یہاں ہی ہیں پھر لاہور میں کچھ لوگوں نے مان لیا۔اسی طرح کچھ نے کلکتہ میں مانا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بیج کی طرح صداقت کو بویا ہوا ہے۔اور اس طرح خدا تعالیٰ صداقت کے مقام اور چھاؤنیاں بناتا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اردگرد اثر پڑے۔پس یہ خیال بالکل نادرست ہے کہ فلاں جگہ کے سب لوگوں کو احمدی بنالیں تو پھر آگے جائیں۔اگر ایسا ہونا ضروری ہوتا تو قادیان کے لوگ جب تک سب کے سب نہ مان لیتے ہم آگے نہ جاتے۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ دس ہیں دن میں مان جاتی ہیں بعض اس سے زیادہ عرصہ میں بعض دو تین سال میں اور بعض دس پندرہ سال میں اور ہر جگہ ایسی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں۔اب اگر ان