ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 20

20 ہدایات زریں جس قدر دلوں پر اثر ہوتا ہے ہزار ہا دلیلوں کا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے وہ میلان طبعی جو نسلاً بعد نسل اسلام سے تعلق رکھنے کے سبب سے ایک مسلمان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے وہ خود بخود جوش میں آ جاتا ہے اور کسی بات کو سامنے نہیں آنے دیتا۔حضرت صاحب کی تمام کتابوں میں یہی بات ملتی ہے۔اگر عقلی دلائل اور شعور سے کام لینے کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دیکھیں تو دونوں پائے جاتے ہیں۔اور اگر صرف عقلی دلائل کو مدنظر رکھیں تو ساری کتاب میں عقلی دلائل ہی نظر آتے ہیں۔اور اگر جذبات کے پہلو کو مد نظر رکھ کر دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ جذبات کو تحریک کی گئی ہے۔ہر ایک شخص کی کتاب میں یہ بات نہیں پائی جا سکتی۔اور یہ حضرت صاحب کے قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے۔آپ نے عقلی دلائل اور جذبات کو ایسے عجیب رنگ میں ملایا ہے کہ ایسا کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔لیکن گو ہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا مگر یہ کر سکتا ہے کہ ان سے الگ الگ طور پر کام لے عقلی دلائل سے الگ کام لے اور جذبات سے الگ۔حضرت صاحب نے ہر موقع پر جذبات کو ابھارا ہے اور کبھی محبت کبھی غضب کبھی غیرت کبھی بقائے نسل کے کبھی حیا کے جذبات میں حرکت پیدا کی ہے۔چنانچہ آپ نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ کیا تم لوگ مسیح کی نسبت صلیب پر مرنے کا عقیدہ رکھ کر اسے ملعون قرار دیتے ہو اس پر غور کرو اور سوچو۔اس طرح ان کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت کے جذبات کو پیدا کر دیا گیا اور اس جائز محبت کے جذبات کے ذریعہ اس ناجائز محبت کے جذبات کو کہ انہوں نے مسیح کو خدا سمجھ رکھا ہے کاٹ دیا گیا۔