ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 19

19 ہدایات زریں اندر رکھی گئی ہے اور جس کا تعلق دلائل عقلیہ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اندرونی حتوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے ہم جذبات کہہ سکتے ہیں جیسے محبت ہے، غضب ہے، شہوت ہے، خواہش بقا ہے۔بہت دفعہ عقلی دلائل سے کسی مسئلہ کو ثابت کرنے سے اس قدر اس کی طرف میلان یا اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی۔مگر ان جذبات کو اُبھار دینے سے انسان فور أبات کو قبول کر لیتا ہے اور ان احساسات کو ابھار کر بڑے بڑے کام لئے جاسکتے ہیں اور لئے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک گھڑی میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھا ہو گا کہ کہیں بحث ہو رہی ہے جب مولوی دیکھے کہ میں ہارنے لگا ہوں تو وہ کہہ دے گا مسلمانو ! تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہو رہی ہے تم خاموش بیٹھے سن رہے ہو۔یہ سن کر سب کو جوش آجائے گا اور وہ شور ڈال دیں گے۔چاہے ہتک ہو رہی ہو یا نہ ہو رہی ہو۔جذبات جس وقت اُبھر جاویں تو غلط اور صحیح کی بھی تمیز نہیں رہتی اور ایک روچل پڑتی ہے جس میں لوگ بہنے لگ جاتے ہیں۔غلط طور پر اس سے کام لینا جائز نہیں۔لیکن جب عقل اس کی تائید کرتی ہو اور حق اور صداقت کے لئے حق اور صداقت کے ساتھ کام لیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے بلکہ بسا اوقات ضروری ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریق سے بہت کام لیا گیا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود نے بھی اس سے خوب ہی کام لیا ہے۔آپ وفات مسیح کے متعلق دلائل لکھتے لکھتے یہ بھی لکھ جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں دفن ہوں اور حضرت عیسی آسمان پر بیٹھے ہوں۔ایک مسلمان کی غیرت اس بات کو کس طرح گوارا کرسکتی ہے۔یہ وفات مسیح کی عقلی دلیل نہیں لیکن ایک روحانی دلیل ہے اور اس سے جذبات بھی ابھر آتے ہیں۔اور اس کا